Sunday, 7 October 2012

مرزا صاحب کی قرآن فہمی


قادیانی حضرات اکثر بطور دلیل یہ بات کہتے ہیں کہ مرزا صاحب کی قرآن فہمی اور اسلام کے معتلق علم نے اُنہیں نبوت کے مقام تک پہنچایا، اور نبوت کے جاری ہونے کے سلسلے میں جہاں وہ بہت سی احادیث اور قرآنی آیات پیش کرتے وہاں سورۃ الاعراف کی یہ آیہ مبارکہ بھی پیش جاتی ہے۔ لیکن دوستو آپ حیران ہونگے کہ مرزا صاحب نے اس مذکورہ آیت کبھی پیش نہیں کیا۔ اسکی وجہ کیا یہ کہ مرزا ساحب کی نظر سے آیت گذری نہیں، یا وہ اسکو سمجھ نہیں سکے؟ اُن کی وفات کے بعد اُن کے مُریدوں نے آیت کوبطور نبوت کے جاری ہونے کے حق میں پیش کیا۔ کیا مرزا صاحب قرآن کو نہیں سمجھتے تھے یا اُن کے ماننے والے نہیں سمجھ رہے؟ اگر یہ کہ مرزا صاحب کے بعد اللہ نے اس آیت کے مفہوم کو کسی احمدی پر کھولا ہے تو کیا وہ احمدی مربی، مشنری، امیر یا خلیفہ بتائیں گے کون ہے اور اُسے اللہ نے کب اور کیسے بتایا؟؟؟




No comments:

Post a Comment