کیا مرزا غلام قادیانی زنیم تھے؟ زنیم کے لغوی معنی ہیں، بے نسب، ولدالحرام یا مشہور و بدنام۔ مرزا بشیرالدین محمود( خلیفہ ثانی) نے اپنی تفسیر صغیر میں زنیم کو اسطرح بیان کیا ہے، ""وہ شخص جو کسی قوم کا فرد تو نہیں مگر اپنے آپ کو اس کی طرف منسوب کرتا ہے""
آئیے دیکھیں کیا مرزا غلام احمد قادیانی
""زنیم"" ہیں یا نہیں؟ مرزا صاحب لکھتے ہیں"" میں
باپ کے لحاظ سے قوم کا مغل ہوں""(ضمیمہ براہین احمدیہ پنج
م)"" اکثر مائیں اور دادیاں ہماری مغلیہ خاندان سے
ہیں اور وہ صینی الاصل ہیں یعنی چین کی رہنے والی ہیں""(حقیقۃ الوحی)
""میں اپنے خاندان کی نسبت کئی دفعہ لکھ چکا ہوں کہ وہ ایک شاہی خاندان
ہے اور بنی فارس اور بنی فاطمہؓ کے خون سے ایک معجون مرکبّ ہے""(تریاق
القلوب)""میں تو پنجابی ہوں""(ملفوظات جلد ۵
) مزید خاندان کی ترکیب کے متعلق اللہ نے بھی بقول انکے
گواہی دی ہے لکھتے ہیں، "" ہمارے خاندان کی ترکیب بنی فارس اور بنی
فاطمہؓ سے ہے، کیونکہ اسی پر الہام الہی کے تواتر نے مجھے یقین دلایا ہے اور گواہی
دی ہے""(تریاق القلوب)
اب یہ بیان بھی انہی حضرت کا ہے ملاحظہ ہو،
""اس عاجز کا خاندان دراصل فارسی ہےنہ مغلیہ(بنی فارس کی اُوپر
الہام کی گواہی موجود ہے۔۔۔ناقل) نہ معلوم کس غلطی سے مغلیہ خاندان مشہور ہو
گیا""(حقیقۃ الوحی) اس کے بعد مزید فرماتے ہیں، ""بعض دادیاں
ہماری شریف سادات کی لڑکیاں تھیں چنانچہ خدا تعالی کے بعض الہامات میں اس بات کی
طرف اشارہ ہے کہ اس عاجز کے خون کی بنی فاطمہؓ کے خون سے آمیزش
ہے""(تریاق القلوب) اب ان کے چچا زاد بھائی مرزا امام دین اپنے آپ کو
قوم لال بیگیاں مشہور کرتا ہے۔(ملفوظات جلد ۶) یاد رہے مرزا امام دین کی بیوی کنچنی(
کنجری، طوائف، پیشہ کرانے والی) تھی۔(تذکرہ)
احمدی دوستو! اب آپ خود سوچیں غور کریں کہ کیا مرزا صاحب زنیم
کی تعریف میں آتے ہیں کہ نہیں؟ سوچیں احمدی حضرات غور کریں۔ سوچ احمدی سوچ، سوچ،
سوچ احمدی سوچ۔

No comments:
Post a Comment