اگر ایک عام احمدی خاندان یا ایک فرد عورت ہو یا مرد کسی مخلوط پارٹی میں شامل ہو جائیں تو سزا اخراج، اگر کسی مسلمان سے نکاح کرلیں تو اخراج!!!! لیکن آپ یقین نہیں کریں گے کہ اگر مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کے خاندان کے افراد کسی سے بھی ناجائز جنسی تعلقات قائم کرلیں حتکہ کسی لڑکی کو حاملہ کردیں تو بھی اخراج یا کوئی اور سزا تو دُور کی بات اُس کی سرزنش بھی نہیں جاتی اور وہ دندناتے پھرتے ہیں، اُس پر ستم یہ کہ عام احمدی ان زانیوں کا دفاع کرتے ہیں صرف اس لئے کہ یہ خاندان مسیح موعود کے افراد ہیں اور ان کو سب کچھ جائز ہے۔ مرزا ناصر احمد (تیسرے خلیفہ) کی بیٹی امۃ الشکور (شُکری) اور اس کا خاوند پاشا جو مرزا صاحب کی بیٹی امۃ الحفیظ کا بیٹا۔ ان دونوں میاں بیوی نے اپنے بچوں کے لئے ایک آیا ملازمہ کے طور رکھی تھی جو بچوں کی دیکھ بھال کرتی یہ آیا جوان اور خوبصورت تھی، شُکری بیگم اکثر لندن آتی جاتی تھیں اور اس کی غیر حاضری میں پاشا میاں اس آیا کے ساتھ شب ہجر کو شب وصال میں۔۔۔۔۔۔۔بدلتے تھے ۔ پھر یہ آیا حاملہ ہوئیں اور شُکری بیگم نے شورمچایا باپ خلیفہ اور ساس مرزا غلام احمد قادیانی کی بیٹی، خلیفہ نے زانی داماد کو کو ئی سزا نہ دی اور نہ ہی آیا کو۔ ماں جو بیٹی مرزا صاحب کی نہ ہی اُس نے کو سرزنش کی، بلکہ شُکری کو طلاق دلا کر آیا کو بہو بنا لیا۔ وہ ناجائز بچہ بھی خلافت کا اُتنا ہی حقدار ہے جتنے باقی اُمیدوار، یہ بچہ جوان ہو چکا ہے اور ہو سکتا ہے کہ مرزا مسرور کے بعد اگلا خلیفہ ہو کیونکہ اس رگوں میں بھی مرزا خاندان کا ناجائز خون گردش رہا ہے۔ اگر کسی نوجوان احمدی کو شک ہو تو ان احباب سے رابطہ کرکے اس واقعہ کی سچائی معلوم کی جاسکتی ہے۔
مرزا مسرور، مرزا لقمان، شُکری، مرزا انس، پاشا، فائزہ بنت
مرزا طاہر احمد اور ایک لمبی فہرست ہے۔
آئیندہ مرزا لقمان احمد ابن مرزا ناصر احمد (تیسرے خلیفہ) کے
قصے!

No comments:
Post a Comment